ابنا: ان احتجاجی مظاہروں میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب قاہرہ سے ایک سو بیس کیلو میٹر دور صوبہ بنی سویف کی پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے بارہ افراد کو ہلاک کردیا ۔ دوسری طرف قاہرہ اسکندریہ سویز اور شرم الشیخ سمیت مصر کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاج پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔ شرم الشیخ کے پرانے اور تاریخی بازار کو آگ لگادی گئی ہے اگرچہ شہر میں فوج کو تعینات کردیا گیا تھا مصری وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گڑ بڑ پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا ۔ اس درمیان کچھ شر پسند عناصر نے قاہرہ سمیت بعض ديگر شہروں میں عام لوگوں کی املاک کو لوٹ لیا ہے مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ یہ سب کچھ حکومتی مشینری کی ایماء پر ہورہا ہے تاکہ مظاہرین کو بدنام کیا جائے ۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے طور پر محلوں کی سطح پر کمیٹیاں بنالی ہيں تاکہ شرپسندوں کا مقابلہ کرسکیں۔ ادھر مصری حکومت کی اہم مخالف جماعت اخوان المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ مصری عوام کی تحریک ایک ڈکٹیٹر کے خلاف چل رہی ہے اور یہ قومی اور وطن پرستانہ تحریک ہے اخوان المسلمین کے رہنما عبدالمنعم عبدالفتوح نے کہا کہ مصری عوام کی تحریک ملک میں عوام کی بہت عظیم تحریک ہے اس میں ملک کی تمام جماعتيں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمین مظاہروں کا اہتمام کرتی ہے اور حکومت مخالف سیاسی شخصیتوں سے رابطے برقرار کرتی ہے انہوں نے کہا کہ مصری عوام مسند اقتدار پر ایسے صدر کو دیکھنا چاہتے ہيں جو عوام کا منتخب کردہ ہو۔ دریں اثناء مسلم علماء کی عالمی یونین کے سربراہ شیخ یوسف قرضاوی نے حسنی مبارک سے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے کنارہ کش ہوجائيں ۔المسلم انٹرنیٹ ویب سائٹ نے خبردی ہے کہ یوسف قرضاوی نے مصری صدرحسنی مبارک سے کہا ہے کہ قبل اس کے کہ مصر میں اس سے زیادہ خون خرابا اور تباہی وبربادی ہو وہ اقتدار سے کنارہ کش ہوجائيں ۔ جرمنی فرانس اور برطانیہ جیسے یورپی ملکوں نے مصر میں حکام اور مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں فرانس کے صدر سرکوزی، جرمن چانسلر مرکل اور برطانوی وزیراعظم کیمرون نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مصرمیں جاری حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امید کرتے ہيں کہ مصری صدرحسنی مبارک مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کردیں گے اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ تیونس کے بعد مصر اور بعض دیگر عرب ملکوں میں عوامی و اسلامی تحریکوں کے شروع ہوجانے کے پیش نظر امریکی اور یورپی رہنماؤں میں سخت تشویش پائی جارہی ہے ۔بہت سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مصرميں جاری عوامی تحریک سے اسرائیل کوشدید تشویش لاحق ہے قاہرہ میں اسرائیل سفارتکار سفارتخانہ چھوڑ کر تل ابیب فرار کرگئے ہيں جبکہ مصر میں موجود غیرملکی سیاح بڑی تعداد میں قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مصر سے باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہيں ۔اس درمیان ہندوستان کی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مصر کا سفر نہ کریں ۔ ہندوستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو چاہئے کہ وہ موجودہ صورتحال میں مصر کا سفرنہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 1